اک خواب مجسم ہونے سے ویران ہوا
Lateef Sahilاک خواب مجسم ہونے سے ویران ہوا
اک جگنو ہاتھ میں آیا تو بے جان ہوا
اک پیڑ پہ آئے پھل تو پرندے مل بیٹھے
اک شخص کا بچپن بیتا تو انجان ہوا
اک دیکھنے والا دیکھ چکا جب آنکھوں میں
پھر دل میں ان دیکھے کا ڈر مہمان ہوا
وہ ایک سفر ایجاد کا تھا یا ہجرت تھی
جو رستہ شہر سے نکلا اک میدان ہوا
میں راکھ ہوا تو سوگ کی کوئی بات نہیں
اس خاک پہ میرے وصل کا دن آسان ہوا
کچھ پودوں تک اک دن بھی دھوپ نا آئی تھی
اک پیڑ کے کٹنے سے جنگل گنجان ہوا
اک خواب سے جیسے سو تعبیریں نکلی ہوں
اک چہرہ کتنے چہروں کی پہچان ہوا