جذبۂ عشق پھر مچلتا ہے

Lateef Sahil

جذبۂ عشق پھر مچلتا ہے

ڈھلتے ڈھلتے یہ چاند ڈھلتا ہے

پوچھتی پھر رہی ہے اوس ابھی

پھول کب پیرہن بدلتا ہے

میں تو چلتا ہوں تیری یاد کے ساتھ

راستہ میرے ساتھ چلتا ہے

تیرے آنگن میں شب اترتی ہے

تیری کھڑکی سے دن نکلتا ہے

خوشبوئیں خوشبوؤں سے ملتی ہیں

کس لیے پھول ہاتھ ملتا ہے

لاکھ نازک سہارے ہوں لیکن

گرنے والا کہاں سنبھلتا ہے

آرزوؤں کی فصل دل میں ہے

چشمہ آنکھوں سے کیوں ابلتا ہے

ہم جھلس تو رہے ہیں اے جاناں

تیرا سورج بھی تو پگھلتا ہے

رائے ہم کو بدلنی پڑتی ہے

وقت کب فیصلہ بدلتا ہے