جنہیں ہم بھولنا چاہیں وہ اکثر یاد آتے ہیں

G L Rawal

جنہیں ہم بھولنا چاہیں وہ اکثر یاد آتے ہیں

برا ہو اس محبت کا وہ کیوں کر یاد آتے ہیں

بھلائیں کس طرح ان کو کبھی پی تھی ان آنکھوں سے

چھلک جاتے ہیں جب آنسو وہ ساگر یاد آتے ہیں

کسی کے سرخ لب تھے یا دیے کی لو مچلتی تھی

جہاں کی تھی کبھی پوجا وہ مندر یاد آتے ہیں

رہے اے شمع تو روشن دعا دیتا ہے پروانہ

جنہیں قسمت میں جلنا ہے وہ جل کر یاد آتے ہیں