آنکھوں سے یادوں کا دریا بہتا ہے
Vihan Guptaآنکھوں سے یادوں کا دریا بہتا ہے
خواب ہمیشہ مجھ میں اس کا رہتا ہے
ہر تتلی پھولوں سے کہتی رہتی ہے
وہ آئے تو باغ سنہرا لگتا ہے
میں اس کو کھڑکی سے تکتا رہتا ہوں
اس کے گھر کے باہر پہرہ رہتا ہے
صحراؤں میں مجنوں پیاس بجھانے کو
آنسو کی بوندوں کو اکٹھا کرتا ہے
اس کے بارے میں سننے کو آیا ہے
وہ شیشے سے پتھر توڑا کرتا ہے