دیا سے دعا سے ادا سے وفا سے

Vihan Gupta

دیا سے دعا سے ادا سے وفا سے

مجھے ٹھیک کر دو کسی بھی دوا سے

چراغوں کو گھر کے کھلے میں نہ چھوڑو

کہیں بجھ نہ جائیں وبا کی ہوا سے

سنو جا رہا ہوں میں در پے خدا کے

شکایت کروں گا تمہاری خدا سے

ہنسی جھوٹی کیسے رکھیں ہم لبوں پر

کہ پوچھیں گے ہم بھی کسی غم زدہ سے

ہوائیں ہیں کہتی دیوں سے کہ تم سب

جلو گے بجھو گے ہماری رضا سے

سزا سے نہیں کوئی انکار لیکن

سزا یہ بڑی ہے ہماری خطا سے