مرے پیارے بچے
Zafar Sayyadمرے پیارے بچے
بڑا ظلم تم پر ہوا ہے
بہ یک جنبش سر تمہیں اپنی مسند سے معزول ہونا پڑا ہے
سمجھ میں نہیں آتا ایسی خطا کیا ہوئی تم سے
مانا کہ تم اپنے بھائیوں سے ٹھگنے تھے
یا پھر تمہارا ٹھکانا مقرر نہیں تھا
تم اپنی حدوں سے بھٹک کر کسی اور کے دائرے میں
در انداز ہوتے تھے
میں جانتا ہوں تمہارے بدن پر سے اندوہ کا سیل گزرا ہے
لیکن مری بات کا تم برا مت منانا
اگر میں کہوں یہ کہ تم پہلے ہی دن سے اس مسند عالیہ کے تقدس
کے لائق نہیں تھے
سو جتنے برس تم نے اس سوانگ میں کر و فر سے گزارے ہیں
ان پر قناعت کرو
اور زمیں کے کسی دور افتادہ گوشے میں
مکتب کو جاتے ہوئے ایک بچے کی آنکھوں سے
یہ بات سن کر
اگر ایک آنسو گرا ہے
اسے سینت کر طاقچے میں سجا لو
خلاؤں کے یخ بستہ بے نور پاتال میں یہ ستارہ تمہارا سہارا بنے گا