سمندر خان اک پشتو کا شاعر
Zafar Sayyadسمندر خان اک پشتو کا شاعر
جا رہا تھا گاؤں سے دور ایک ویرانے میں
یک دم اک جھپاکا سا ہوا
اور ذہن کے پردے پہ اک دھندلا ہیولیٰ بننے اور مٹنے لگا
پر شومیٔ قسمت قلم ہی جیب میں تھا اور نہ کاغذ کا کوئی پرزہ
سمندر خان رک کر اور اک پتھر پہ ٹک کر میچ کر آنکھوں کو
دنیا اور ما فیہا سے بیگانہ ہوا
پھر شام کو گاؤں کے لوگوں نے عجب نظارہ دیکھا
ڈھلتے سایوں میں سمندر خان وہ پشتو کا شاعر
ڈگمگاتا ہانپتا اپنے پسینے میں نہاتا
پیٹھ پر دو من کی اک چٹان لادے
گاؤں کی سرحد میں داخل ہو رہا ہے
اور اس کے بعد عادت بن گئی اس کی
سمندر خان ویرانے سے بھاری سل
کوئی جب تک اٹھا کے گھر نہ لاتا تھا
تو اس پر نظم کی اک سطر تک القا نہ ہوتی تھی
سو رفتہ رفتہ اس کی کوٹھری دالان اور چھت
ان گھڑی بے ڈھب سلوں کے بوجھ سے دبتے گئے
اک دن سمندر خان وہ پشتو کا شاعر
کھردری نظموں کے اس انبار کے نیچے دھنسا پایا گیا