میر باقر علی

Zafar Sayyad

میر باقر علی

تم نے پھر بیچ میں داستاں روک دی

شاہ گل فام گنجل طلسموں کی گتھیوں کو سلجھاتا

صرصار جنگل کے شعلہ نفس اژدہوں سے نمٹتا

بیابان حیرت کی بے انت وسعت کو سر کر کے

پہرے پہ مامور یک چشم دیووں کی نظریں بچا

سبز قلعے کی اونچی کگر پھاند کر

مہ جبیں کے معنبر شبستان تک آن پہنچا ہے

اور اس طرف حق و طاغوت مد مقابل ہیں

جری سورما آمنے سامنے ہنہناتے الف ہوتے گھوڑوں پہ زانو جمائے ہوئے منتظر ہیں

ابھی طبل پر تھاپ پڑنے کو ہے

اور ادھر شاہزادہ طلسمی محل کے حسیں دودھیا برج میں شاہ زادی کے حجلے کے اندر

ابھی لاجوردی چھپر کھٹ کا زر بفت پردہ اٹھا ہی رہا ہے

مگر میر باقر علی تم نے پھر بیچ میں داستاں روک دی

راہداری منقش در و بام ست رنگ قالین بلور قندیل فوارہ بربط سناتا

جھروکوں پہ لہراتے پردوں کی قوس قزح

میمنہ میسرہ قلب ساقہ جناح

آہنی خود سے جھانکتی مرتعش پتلیاں

رزم گہہ کی کڑی دھوپ میں ایک ساکت پھریرا

چھپر کھٹ پہ سوئی ہوئی شاہ زادی کے پیروں پہ مہندی کی بیلیں

فصاحت کے دریا بہاتے چلے جا رہے ہو

بلاغت کے موتی لٹاتے چلے جا رہے ہو

مگر میر باقر علی داستاں گو سنو

داستاں سننے والے تو صدیاں ہوئیں اٹھ کے جا بھی چکے ہیں

تم اپنے طلسماتی قصے کے پر پیچ تاگوں میں ایسے لپٹتے گئے ہو

کہ تم کو خبر ہی نہیں

سامنے والی نکڑ پہ اک آنے کی بائیسکوپ آ گئی ہے