بینائی بھی اپنی میری
Yawar Amaanبینائی بھی اپنی میری
خواب بھی میرے اپنے ہیں
بینائی بھی سچی میری
خواب بھی میرے سچے ہیں
ان دونوں کی لذت سچی
اور اذیت بھی سچی
مجھ کو یہ معلوم تو ہے کہ
تم میرے اور مجھ جیسے
لاکھوں لوگوں کے خوابوں سے نفرت کرتے رہتے ہو
اور اس کی تعبیر کے بدلے
بھوک افلاس غریبی اور محرومی
کے دروازے وا کرتے ہی رہتے ہو
اور ان دروازوں کے ذریعہ
بیمار اجالے
نسلوں تک پھیلاتے ہو
دہشت گرد بناتے ہو
لیکن تم نے کب سوچا ہے
جلتی اور دہکتی راتیں
وقت کا چلتا پہیہ یکسر
عام نہیں کر سکتی ہیں
میری آنکھوں کی بینائی
میرے خوابوں کی سچائی
مجھ سے چھین نہیں سکتی
پھر بھی سن لو
عزم ہے اپنا
جب تک آنکھوں کی بینائی
جب تک اپنے خواب سلامت
تیز نظر نا بیناؤں کو
اپنے خواب نہیں بیچیں گے
چاہے کچھ ہو
چاہے دھیان گنوا دیں اپنا
چاہے اپنی جان بھی جائے