ملگجی عرض غم زرد سا آسماں

Yaseen Qudrat

ملگجی عرض غم زرد سا آسماں

اور افق تا افق اور شفق در شفق

سرمئی بادلوں میں اداسی کے رنگ

اس کے کمرے کے ماحول میں

اک ملال آفریں کیفیت

اس کی نرگس سی آنکھوں میں لرزاں حنائی

نشاں

الاماں

اس کا غنچہ دہن

ادھ کھلے پھول سا

اس کے رخسار پر

سرخیوں کی پھبن

اور براق ہاتھوں پہ رکھی ہوئی زندگی

وہ مری زندگی

درد کے سلسلے

پھول افسردہ کلیاں نڈھال

کھنڈروں کی مثال

بام اجڑے ہوئے

حیرتوں کے سفر

ہجرتوں کے نگر

اور بے رنگ افسردہ پژمردہ اطراف کا شور و شر

اس کی یادوں کے دکھ

اس کی دوری کے غم

نارسائی کے ارمان

اور کرب کی دھند میں

اس کی ہجرت کے دکھ

میں جو پلٹوں تو ماضی کی بیزاریاں

بال کھولے ہوئے ماتمی رنگ میں پرفشاں

ایک برزخ کی وہ رات تھی

گونجتی رات تھی

جبکہ کمرے میں سب جمع تھے

اس نے مجھ سے کہا

چلو آج باہر کا موسم بہت دل نشیں ہے