ٹوپیوں کی ایک گٹھری باندھ کر

Ufuq Dehlvi

ٹوپیوں کی ایک گٹھری باندھ کر

کر لیا ایک شخص نے عزم سفر

راستہ اتنا نہ تھا دشوار تر

تھک گیا وہ راہ میں پھر بھی مگر

پیڑ دیکھا راستے میں سایہ دار

سانس لینا چاہا اس نے لیٹ کر

ساتھ ہی بہتی تھی اک ندی وہاں

پانی جس میں تھا رواں شفاف تر

لیٹتے ہی نیند اس کو آ گئی

مال سے اپنے ہوا وہ بے خبر

پیڑ پر بندر تھے کچھ بیٹھے ہوئے

جب پڑی گٹھری پہ ان سب کی نظر

دھیرے دھیرے نیچے اترے اور وہ

لے گئے گٹھری اٹھا کر پیڑ پر

کھول کر گٹھری پہن لیں ٹوپیاں

جچ رہے تھے ٹوپیوں میں جانور

شور کرنے لگ گئے بندر بہت

جاگ اٹھا جو سو رہا تھا بے خبر

اس نے جب گٹھری نہ دیکھی آس پاس

دل میں یہ سوچا گئی گٹھری کدھر

پیڑ پر اس نے جو دیکھا غور سے

آئے بندر ٹوپیاں پہنے نظر

ٹوپیاں پانے کی کوشش اس نے کی

مل نہ پایا جب اسے کوئی ثمر

اپنے سر سے اپنی ٹوپی کو اتار

پھینک دی غصے میں اس نے گھاس پر

سب نے پھینکیں اپنی اپنی ٹوپیاں

بندروں پر یہ ہوا اس کا اثر

جمع کر لیں اس نے اپنی ٹوپیاں

سوئے منزل باندھ لی پھر اس نے کمر

ٹوپیاں کیسے افقؔ ملتیں اسے

عقل سے لیتا نہ کام اپنی اگر