تھامے ہاتھ اپنے ابو کا

Ufuq Dehlvi

تھامے ہاتھ اپنے ابو کا

کمسن بچہ بھولا بھالا

گھر کے پاس ہی باغیچے میں

صبح سویرے سیر کو آیا

باغیچے میں ہریالی تھی

غنچہ غنچہ مہک رہا تھا

شاخوں پر گل جھوم اٹھتے تھے

چھیڑتا تھا جب ہوا کا جھونکا

دیکھ کے دل کش منظر بچہ

دل ہی دل میں اپنے خوش تھا

مخمل جیسی گھاس پہ اس نے

موتیوں کو جب بکھرے دیکھا

ابو کی پھر چھوڑ کے انگلی

دوڑ کے موتی چننے پہنچا

اس کے ابو نے جب دیکھا

پوچھا کیا کرتے ہو بیٹا

کہنے لگا وہ کمسن بچہ

چنتا ہوں میں موتی ابا

موتی چٹکی سے وہ اٹھاتا

پانی تھا پانی ہو جاتا

ابو نے معصوم ادا پر

گود میں لے کر خوب ہی چوما

اور یہ پھر بچے کو بتایا

موتی قطرہ ہے شبنم کا

چاہے جتنی کوشش کر لو

ہاتھ پہ لیکن آ نہ سکے گا

کاش افقؔ معصوم بنیں ہم

بچپن پھر لوٹ آئے گا اپنا