مسخرہ تھا بادشہ کا اک غلام

S. M. Salim Tanveer

مسخرہ تھا بادشہ کا اک غلام

ہو گیا تھا وہ بہت ہی نیک نام

خدمت مخلوق اس کا کام تھا

اور اس نیکی کا چرچا عام تھا

دیکھیے کرنا خدا کا کیا ہوا

ایک اس کا دوست غم میں پھنس گیا

رنگ لائی شاہ کی چشم عتاب

بے نوا پر ہو گیا نازل عذاب

مل چکا تھا حکم اس کو قتل کا

اب رہائی کا کوئی چارہ نہ تھا

موت کی ساعت نظر آئی قریب

مسخرے کے پاس پہنچا وہ غریب

کہہ سنایا اس کو اپنا ماجرا

شاہ والا جاہ ہے مجھ سے خفا

پھر سفارش کے لیے وہ مسخرہ

جلد تر دربار شاہی میں گیا

بادشاہ نے مسخرے کو دیکھ کر

کی بڑے غصہ سے اس پر بھی نظر

پھر کہا تیری نہ مانوں گا کبھی

تلخ کر رکھی ہے تو نے زندگی

ہر کسی کا تو بنا ہے غم گسار

پھر سفارش کا ہو کیوں کر اعتبار

میں کروں گا تیرے کہنے کے خلاف

کر نہیں سکتا قصور اس کا معاف

مسخرے نے عرض کی عالم پناہ

قول سے پھرتے نہیں ہیں بادشاہ

قتل ہو جائے یہ بد قسمت شتاب

کیجئے دل کھول کر اس پر عتاب

یہ عتاب شاہ جلد ہی دور ہو

اور دل سرکار کا مسرور ہو

بادشہ کو آ گئی اس پر ہنسی

پائی مجرم نے دوبارہ زندگی

مسخرے کی عقل پر سب شاد تھے

غم زدہ دل عیش سے آباد تھے

بچ گئی اک جان اس کی بات سے

ہو گیا بیکس رہا آفات سے