دل کا نگر تنہائی زدہ ہے جس میں

Saadat Syed

دل کا نگر تنہائی زدہ ہے جس میں

فقط میں جاگ رہا ہوں

وقت کے سب لمحوں کی کہانی اور ساری روداد

ایک یہی بس اجڑی دنیا

ایک یہی بس دل

صدیوں پرانے وقت کی یادیں ہیں انمول رتن

ہر بستی تھی امن کی بستی ہر قریے میں سکھ

سانسوں میں خوشبوئیں تھیں

روحوں میں کیف سرور

اک دوجے کے سکھ کا سہارا

سونا اگلتی دھرتی پہ بستے لوگ

پوتر لوگ پرانے

وقت کی یادیں روشن ہیں چمکیلی ہیں

حال سے ان کا ربط نہیں ہے

آج ہماری ہر بستی میں امن و سکوں کی دھوم مچی ہے

کتنی ننگی تیکھی چٹانیں رستے روک رہی ہیں

کتنے دہکے گہرے گلخن

جن کی تہوں میں سبز گھنے پیڑوں کے پتے پڑے ہوئے ہیں

شادابی کے دشمن روشن مسکن

جن کی چھتوں پر لعل زمرد اور ہیرے کے ہار سجے ہیں

امن سے عاری تنہائی کی کالی موجیں

ہر منظر پر چھائی ہیں

میں بھی تنہا تم بھی تنہا تنہا سارے لوگ

یہاں سناٹے ہیں کہ بول رہے ہیں

تم جو کبھی ویران گلی میں

اپنے مکان کے کھلتے دریچوں سے جھانکتے ہو تو

تنہائی کے ساگر کا ہی شور سنائی دیتا ہے

دل کا نگر تنہائی زدہ ہے

جس میں تم ہی جاگ رہے ہو

جس میں سب ہی جاگ رہے ہیں ہیں

جس میں فقط میں جاگ رہا ہوں