کب تک تیری بجھتی آنکھیں
Qamar Javedکب تک تیری بجھتی آنکھیں
نیندوں سے بوجھل چوکھٹ میں
ٹوٹتے تاروں گرتے چناروں کا اجڑا منظر دیکھیں گی
یہ چوکھٹ تو
گزرے پل کا روپ دکھا کر
اس آفاق کی دور افتادہ سیڑھی میں گم ہو جائے گی
جس کی آخری کھڑکی
پھٹے پرانے کپڑوں کی ٹوٹی دوکان میں کھلتی ہے
اس چوکھٹ سے باہر آ کر
گھاس پہ ننگے پاؤں چلنا
گھاس جسے شبنم کی معطر بوندوں نے اشنان دیا ہے
یہیں کہیں اس کے پہلو میں
ہوا وہ سپنے بانٹ رہی ہے
جس کو اس چھوٹے سے گھر کی
شوق سحر میں
ابھی حقیقت بننا ہے