افق کی منڈیروں پہ

Raees minai

افق کی منڈیروں پہ

دن کا تھکا ماندہ سورج کھڑا تھا

اور اس کا بدن سرخ شالوں کی زد میں جھلستا رہا

وہ چپ چاپ گم سم

خلاؤں کو تکتا رہا

ایک گونگا تماشائی بن کر

یکایک خلاؤں کی پہنائیوں میں

پس پردۂ شب سے

اک چیخ ابھری

وہ مغرور سورج

جو اپنی تکمیلی شعاعوں کے زہریلے کانٹوں سے

معصوم دھرتی کا سینہ کھرچتا رہا تھا

کسی سرد پتھر کی مانند چپ ہو گیا

اندھیروں کی یلغار سے

دم بخود رہ گیا