کوئی شکستہ
Pareshan Lakhnaviکوئی شکستہ
برسوں پرانا مندر
گھیر رکھا ہے جسے
چاروں طرف سے
پیپل کے گھنے پیڑوں نے
مندر کا اداس دیوتا
راہ تکتا ہے انسانوں کی
اور ہر رات اس کی
آس
خاموش بن کر مندر کے
چاروں طرف چھا جاتی ہے
پھر ایک دن
دیوتا
اپنے مندر سے روٹھ جاتا ہے
مجھے
اس دن کا خیال آتا ہے