جب دریا میں آگ لگی

Kaleem Khan

جب دریا میں آگ لگی

بلی نے اک جست لگائی جا بیٹھی دیوار پر

کچھوے کو اڑنا آتا تھا اڑ کر بیٹھا تار پر

مینڈک کو آگے جانا تھا وہ تو بھاگا کار پر

تار پہ بلی ناچ رہی تھی کچھوے سے یہ بولی

آؤ بادل میں چھپ جائیں کھیلیں آنکھ مچولی

مچھلی بیٹی اونگھ رہی تھی وہ بھی پیچھے ہو لی

جب دریا میں آگ لگی

بادل میں تھا پانی کم کم لیکن دھوپ تھی زیادہ

دھوپ کے بستر پر لیٹا تھا بارش کا شہزادہ

سب میں اولے بانٹ رہا تھا شہزادے کا دادا

جب دریا میں آگ لگی

مچھلی نے آواز لگائی مجھ کو بھی دو اولے

بلی اور کچھوے کو دیکھا پھر دادا جی بولے

بادل کے جو دروازے تھے جا کر کس نے کھولے

جب دریا میں آگ لگی

دادا کی یہ بات سنی تو بلی دوڑی آئی

بلی کو اک دھکا مارا کچھوے سے ٹکرائی

مچھلی اپنا منہ لٹکائے نیچے واپس آئی

جب دریا میں آگ لگی