گئے زمانوں سے

Hafeez Siddiqi

گئے زمانوں سے

تیرگی میں بھٹکنے والو

ستم کی لمبی سیاہ رات

اب گزرنے والی ہے

اور مشرق سے

رتھ میں بیٹھا ہوا وہ پیکر

کہ جس کی آمد کے

تم ہمیشہ سے منتظر تھے

کہ جس کی آمد کے خواب بن بن کے

رات آنکھوں میں کاٹتے تھے

سنہری کرنوں کا تاج پہنے

نکلنے والا ہے

طلوع فردا کی آس میں

تیرگی کی راہوں پہ چلنے والو

تمہیں بشارت ہو

تیرگی ختم ہو رہی ہے

طلوع فردا قریب تر ہے

طلوع فردا قریب تر ہے