آج میں آئینے کے مقابل کھڑا ہوں
Hafiz Ahmadآج میں آئینے کے مقابل کھڑا ہوں
مسرت کی خواہش
مرے واسطے موت کا ذائقہ بن چکی ہے
سلگتی ہوئی خواہشوں سے ہراساں بدن
جستجو سے گریزاں ہے
خوش بختوں کے لئے کامیابی کا کوئی بہانہ نہیں
جانتا ہوں
کہ میرا سفر
ایک دہشت زدہ آرزو کا سفر ہے
میری رہ گزر
کرب کی رہ گزر ہے