دروازے پہ کھٹ سے ہوئی اک آواز

Iffat Faridi

دروازے پہ کھٹ سے ہوئی اک آواز

اور میں چونک گئی

ضرور ہوگا آج کا اخبار

دروازہ کھول کر دیکھا

میرا اندازہ سہی نہیں تھا

وہاں اخبار پڑا نہیں تھا

وہاں تھا آگ کا ایک گولا

اس میں لپٹی تھیں

چند مسلی ہوئی معصوم کلیاں

کچھ گندی تنگ گلیاں

بھوک کا سوز

اور کچھ ذخیرہ‌ اندوز

بے روزگاری کا سناٹا

غربت کا چانٹا

سوکھا اور بازار مندہ

ساتھ میں خودکشی کا تھا پھندا

سرحدوں کے جھگڑے

جنگ

اور ایک خطرہ ایٹم بم

کتنے جنگل

گھٹتی ہریالی

بیماری

اسپتالوں کی بد حالی

گھوٹالوں کا شور

اور رشوت خوری کی ہوڑ

ظلم و ستم کی داستانیں

دھماکوں کی آوازیں

دماغ گھوم گیا

پھر غور سے دیکھا

ارے نہیں

وہ آج کا اخبار ہی تھا

لرزتے کانپتے ہاتھوں سے اٹھا لیا

اٹھانا تو تھا ہی نا