پانی کو بھر لو ہاتھ میں
Faisal Rehanپانی کو بھر لو ہاتھ میں
آنکھوں میں بھر لو رنگ
پھولوں سے کھیلتے ہوئے
مٹی کو چوم لو
باتیں کرو درختوں سے
جھومو ہوا کے سنگ
دل سے اک ایک خوف کو
یکسر نکال دو
انجان رستوں پر چلو
گھومو جہان میں
چاہے اڑان بھر لو
کھلے آسمان میں
تعبیر پاؤ
جاگتی آنکھوں کے خواب کی
امکان سے بھری ہوئی
دنیا ہے سامنے