یوں تو سب کے اپنے اپنے خواب ہیں

Faheem Jozi

یوں تو سب کے اپنے اپنے خواب ہیں

جیسے اپنا اپنا کفن

اور کون کس کے کفن کی اترن پہن سکتا ہے

لیکن وہ جو اک دوجے کی قبر میں سو جانے کی

خواہش میں دفن ہوئے

اپنے اپنے اکیلے پن کی اڑتی مٹی میں

کیا ان کے بھی اپنے اپنے خواب تھے

اور ایک دوسرے کی چاپ کی صدائے بازگشت بن جائیں

آؤ ہم ایک ہی فریب کے پیچھے بھاگنے کی کوشش کریں

اور ازل اور ابد کی طنابیں کھینچ کر

ایک ساتھ

فریز فریم ہو جائیں

پھر بھی سچ ہے

کہ سب کے اپنے اپنے خواب ہیں

ادھورے ادھورے

ہلکی ہلکی آنچ میں سلگتے

راکھ ہوتے

اور پت جھڑ میں اڑتے

اور آنسو کب تک پت جھڑ سنوار سکتے ہیں

جب تک آنسو دل میں گرتے رہتے ہیں

دل ان کو سکھی دنوں کی آس دلا کر

تھپک تھپک کر سلاتا رہتا ہے

اور ساری تپش جذب کر لیتا ہے اپنی دھڑکتی خاموش راتوں میں

لیکن جب کوئی ضدی آنسو

اپنے آپ سے روٹھ کے

گر پڑتا ہے

تب تو دل بھی نہیں مانتا کوئی پھسلاوہ

بس آنسو بہنے لگتے ہیں چپ چاپ

پت جھڑ کے پتوں کی طرح

تھکے تھکے قدموں کی مانند

پیارے کیا کوئی ایسا بھی دن ہوگا

جب یہ دن آ جائے گا

اور تب

دل کتنے سوگوار ہو جائیں گے

اور ہمارے ٹوٹے پھوٹے چہرے ایک دوسرے کو

کیسی کھوئی کھوئی نظروں سے دیکھیں گے

ساکت ہو جائیں گے ابد کے چوکھٹے میں

اور پس منظر میں سیکسوفون کی سسکیاں ابھریں گی

اور ایک شکستہ خواب کی میلوڈی میں ڈھل جائیں گی

پھر بھی سچ ہے

کہ سب کے اپنے اپنے خواب ہوتے ہیں

لیکن وہ بھی تو سچ ہے پیارے