رات تیری مری آرزوؤں کا مسکن یہ رات
Dawood Rizwanرات تیری مری آرزوؤں کا مسکن یہ رات
گھور کالی سیہ بادلوں سے اٹی
تیرے میرے گناہوں ثوابوں
سوالوں جوابوں سے عاری یہ رات
خون کی حدتوں میں دہکتی ہوئی
سارے خوابوں کا ایندھن بناتی ہوئی
رتجگوں کی چتا
جو تری میری آنکھوں میں بھڑکی
بھڑک کے بجھی
ساری عمروں کے دکھ
آتی جاتی ہر اک سانس میں ہیں سنبھالے ہوئے
سانس جو آس کی دوستی کو بھلا بھی چکی
دھیرے دھیرے سمٹتی ہوئی
کن یگوں پر نظر کو جمائے ہوئے
برف ہونے لگی
رات وعدے سبھی اصل کے
جو نہ پورے ہوئے
کیوں کیے
کور آنکھیں بھکاری بنی ہیں
مجسم سوالی بنی ہیں
خموشی کا کاسہ لیے
وصل کی ریز گاری کے ہیں منتظر
چھن چھنن
کوئی آواز کوئی بھی
خوشیوں کے سکوں سے لبریز آواز
آنکھیں سنیں
کیسے لیکن سنیں
سرمئی شام اپنا لبادہ بدل بھی چکی
رات آئی
یہ ڈولی نہیں کچھ جنازے اٹھائے ہوئے
سارے وعدے بھلائے ہوئے
شہر افسوس
ایک ماتم لہو کی روانی میں ہے
راکھ ہی راکھ آنکھوں کے پانی میں ہے