اک لطافت اک ترنم اک اثر ہے دیکھیے

Chaudhary Kalka Prashad Ijad Biswani

اک لطافت اک ترنم اک اثر ہے دیکھیے

روح پرور جاں فزا لطف سحر ہے دیکھیے

قطرۂ شبنم ہر اک اشک گہر ہے دیکھیے

کیف آگیں ہے جو منظر جلوہ گر ہے دیکھیے

نصف عالم میں طرب زا دور اک موجود ہے

بے خودی چاروں طرف چھائی ہے رنگیں ہے چمن

جھومتے ہیں لہلہاتے ہیں گل و سرو و سمن

آسماں پر سرخیٔ گلگوں کی ہے ایسی پھبن

دیکھ کر بے ساختہ ہوتا ہے دل بے حد مگن

ہر طرف اک جلوۂ شاداب ہست و بود ہے

اب پرندے بھی لگے پر تولنے وقت سحر

جانب صحرا ہوا چوپایوں کا آخر گزر

اور وہ دہقاں سدا پیتے جو ہیں خون جگر

کام میں مشغول اپنے ہو گئے ہیں سربسر

شاد ہے دل ان کا اور بے حد طرب آلود ہے

رند بادہ نوش ہیں اور وا در مے خانہ ہے

کوئی ہے ہشیار ان میں تو کوئی دیوانہ ہے

دانۂ انگور ہے تسبیح کا جو دانہ ہے

اور صبوحی سے بھرا یوں مہر کا پیمانہ ہے

پارسائی شیخ کی اس وقت سب مفقود ہے

وہ مساجد کی اذاں دل سب کے تڑپانے لگی

بت کدہ میں پھر محبت دل کو گرمانے لگی

حسن کی دل میں عقیدت جوش سکھلانے لگی

رام اور رحمان کی دل کش صدا آنے لگی

یہ صدا ایجادؔ گویا نغمۂ داؤد ہے