آمد ہے سال نو کی سماں ہے بہار کا

Aaftab Rais Panipati

آمد ہے سال نو کی سماں ہے بہار کا

سرسبز گلستاں ہے دل داغدار کا

عشق وطن میں عاشق صادق ہے جاں بہ لب

کیا حال پوچھتے ہو غریب الدیار کا

یا رب کہیں گے کس طرح ہم بیکسوں کے دن

یاد آیا ہے قفس میں زمانہ بہار کا

یوں اشک غم ٹپکتے ہیں آنکھوں سے قوم کی

ممکن نہیں ہے ٹوٹنا اشکوں کے تار کا

اک بار قتل عام کرو تیغ ظلم سے

اچھا نہیں ہے جور و ستم بار بار کا

اے مادر وطن کے سپوتو بڑھے چلو

یہ آج ہو رہا ہے اشارہ بہار کا

قاتل کو ناز قوت بازو پہ ہے اگر

مظلوم کو بھروسا ہے پروردگار کا

اے مادر وطن ذرا دست دعا اٹھا

مقتل میں امتحاں ہے ترے غم گسار کا

گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے دم بدم

کیا اعتبار غیر کے قول و قرار کا

اغیار سے کرم کی توقع فضول ہے

عرصہ گزر چکا ہے بہت انتظار کا

اے آفتابؔ دہر کا شکوہ ہے کیوں تجھے

ہوتا نہیں ہے کوئی دل بے قرار کا