سنو مادر ہند کے نونہالو

Aaftab Rais Panipati

سنو مادر ہند کے نونہالو

صداقت پہ گردن کٹا لینے والو

اٹھو خواب غفلت مٹا لو مٹا لو

کمر بستہ ہو جاؤ ہمت بڑھا لو

تمہیں گام ہمت بڑھانا پڑے گا

وطن کا مقدر جگانا پڑے گا

ترقی کا بھارت کی نغمہ سنا دو

محبت کی گنگا دلوں میں بہا دو

جو خفتہ ہیں مدت سے ان کو جگا دو

صداقت کا دیدوں کی ڈنکا بجا دو

کرو جلد سیراب اجڑے چمن کو

لگیں چار چاند آج اپنے وطن کو

پڑے ہیں کہیں دین کی جاں کے لالے

کہیں دل ہلاتے ہیں بیکس کے نالے

ہوئے ہیں کہیں نیم جاں بھولے بھالے

مصیبت کے چکر میں ہیں ہند والے

چلا ہے کسی کے کلیجے پہ نشتر

دھواں آہ کا ہے کسی کے لبوں پر

بھروسہ زمیں کا نہ چرخ کہن کا

توکل ہے پر ماتما پر وطن کا

نظارہ ہے گلزار کشور میں بن کا

ہوا خار ہر پھول اپنے چمن کا

نہ چھوڑو مگر حوصلہ شیر مردو

اٹھو بیڑا منجھدار سے پار کر دو

شکایت کا کرنا نہیں یاد تم کو

نہیں عادت شور و فریاد تم کو

ستم گر کرے لاکھ برباد تم کو

کرے گردش چرخ ناشاد تم کو

ذرا کان پر جوں نہ رینگے تمہارے

چلیں گردنوں پہ جو خنجر دو دھارے

صدا ظلم کی آ رہی ہے جہاں سے

کہ ظاہر ہیں بیداد پیر و جواں سے

ٹپکتی ہیں گر حسرتیں اب یہاں سے

لپکتے ہیں شعلے ستم کے وہاں سے

مگر تم ہو اس پہ بھی محو قناعت

قناعت نہیں یہ ہے ضعف و کسالت