دور گردوں میں کسی نے میری غم خواری نہ کی

Akbar Allahabadi (1846–1921)

دور گردوں میں کسی نے میری غم خواری نہ کی

دشمنوں نے دشمنی کی یار نے یاری نہ کی

حشر کا سودا ہوا ذوق جمال دوست میں

ہم نے بازار جہاں میں کچھ خریداری نہ کی

قہقہوں کی مشق سے میں نے نکالا اپنا کام

جب کسی نے قدر آہ و نالہ و زاری نہ کی

کوئے جاناں کا پتہ دے کر میں پہنچا خلد میں

مجھ سے کچھ رضواں نے بحث ناجی و ناری نہ کی

وقت سائے کا ابھی آیا نہیں مغرب ہے دور

کیوں پسند اس برق وش نے مشرقی ساری نہ کی

جامہ زیبوں کی نظر بھی دلق اکبرؔ پر پڑی

شان ہی کچھ اور تھی اس خرقہ پارینہ کی