انہیں شوق عبادت بھی ہے اور گانے کی عادت بھی

Akbar Allahabadi (1846–1921)

انہیں شوق عبادت بھی ہے اور گانے کی عادت بھی

نکلتی ہیں دعائیں ان کے منہ سے ٹھمریاں ہو کر

تعلق عاشق و معشوق کا تو لطف رکھتا تھا

مزے اب وہ کہاں پاتی رہی بی بی میاں ہو کر

نہ تھی مطلق توقع بل بنا کر پیش کر دو گے

مری جاں لٹ گیا میں تو تمہارا مہماں ہو کر

حقیقت میں میں بلبل ہوں مگر چارے کی خواہش میں

بنا ہوں ممبر کونسل یہاں مٹھو میاں ہو کر

نکالا کرتی ہیں گھر سے یہ کہہ کر تو تو مجنوں ہے

ستا رکھا ہے مجھ کو ساس نے لیلی کی ماں ہو کر

رقیب سفلہ خو ٹھہرے نہ میری آہ کے آگے

بھگایا مچھروں کو ان کے کمروں سے دھواں ہو کر