ظرف دل دیکھا تو آنکھیں کرب سے پتھرا گئیں
Ahmad Faraz (1931–2008)ظرف دل دیکھا تو آنکھیں کرب سے پتھرا گئیں
خون رونے کی تمنا کا یہ خمیازہ نہ تھا
آ مرے پہلو میں آ اے رونق بزم خیال
لذت رخسار و لب کا اب تک اندازہ نہ تھا
ہم نے دیکھا ہے خزاں میں بھی تری آمد کے بعد
کون سا گل تھا کہ گلشن میں تر و تازہ نہ تھا
ہم قصیدہ خواں نہیں اس حسن کے لیکن فرازؔ
اتنا کہتے ہیں رہین سرمہ و غازہ نہ تھا