سب زخم بھر چکے ہیں سب خواب مر چکے ہیں
Ahmad Faraz (1931–2008)سب زخم بھر چکے ہیں سب خواب مر چکے ہیں
اب کس امید پر ہم شمعیں نئی جلائیں
ان کشتیوں کا کیا ہے اکثر یہی ہوا ہے
طوفان سے نکل کر ساحل پہ ڈوب جائیں
کب ساتھ عمر بھر کا ہم دل زدہ نے چاہا
پر ہم سفر ہمارے کچھ دور تک تو آئیں