درخورِ قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

Mirza Ghalib (1797–1869)

نام کا ہے میرے وہ دکھ جو کسی کو نہ ملا

کام کا ہے مِرے وہ فتنہ کہ برپا نہ ہوا