سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر

Allama Iqbal (1877–1938)

سمجھا لہو کی بوند اگر تو اسے تو خیر

دل آدمی کا ہے فقط اک جذبہء بلند

گردش مہ و ستارہ کی ہے ناگوار اسے

دل آپ اپنے شام و سحر کا ہے نقش بند

جس خاک کے ضمیر میں ہے آتش چنار

ممکن نہیں کہ سرد ہو وہ خاک ارجمند