نگاہ

Allama Iqbal (1877–1938)

بہار و قافلہ لالہ ہائے صحرائی

!شباب و مستی و ذوق و سرود و رعنائی

اندھیری رات میں یہ چشمکیں ستاروں کی

!یہ بحر ، یہ فلک نیلگوں کی پہنائی

سفر عروس قمر کا عماری شب میں

!طلوع مہر و سکوت سپہر مینائی

نگاہ ہو تو بہائے نظارہ کچھ بھی نہیں

کہ بیچتی نہیں فطرت جمال و زیبائی