حیات ابدی

Allama Iqbal (1877–1938)

زندگانی ہے صدف، قرہ نیساں ہے خودی

وہ صدف کیا کہ جو قطرے کو گہر کر نہ سکے

ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگیر خودی

یہ بھی ممکن ہے کہ تو موت سے بھی مر نہ سکے