سارا شہر بلکتا ہے
Ahmad Faraz (1931–2008)سارا شہر بلکتا ہے
پھر بھی کیسا سکتہ ہے
گلیوں میں بارود کی بو
یا پھر خون مہکتا ہے
سب کے بازو یخ بستہ
سب کا جسم دہکتا ہے
ایک سفر وہ ہے جس میں
پاؤں نہیں دل تھکتا ہے
سارا شہر بلکتا ہے
پھر بھی کیسا سکتہ ہے
گلیوں میں بارود کی بو
یا پھر خون مہکتا ہے
سب کے بازو یخ بستہ
سب کا جسم دہکتا ہے
ایک سفر وہ ہے جس میں
پاؤں نہیں دل تھکتا ہے