انتخابِ غالب
فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
رمل مثمن محذؤف
مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن
ہر چند ہو مشاہدۂ حق کی گفتگو
بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فاعلن مفاعیلن فاعلن مفاعیلن
ہم کہاں کے دانا تھے کس ہنر میں یکتا تھے
بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا
ہزج مثمن اشتر
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہزج مثمن سالم
مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
مفعول مفاعلن فعولن
کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد
مے ہے یہ مگس کی قے نہیں ہے
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فعولن فعولن فعولن فعولن
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
متقارب مثمن سالم
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعِلن
بوئے گل، نالۂ دل دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
رمل مثمن مخبون محذوف
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعِلن
نظر لگے نہ کہیں اس کے زورِ بازو کو
یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں
مجتث مثمن مخبون محذوف
فعلات فاعلاتن فعلات فاعلاتن
کوئی میرے دل سے پوچھے، ترے تیرِ نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
رمل مثمن مشکول
مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
میں اور بزمِ مے سے، یوں تشنہ کام آؤں
گر میں نے کی تھی توبہ ساقی کو کیا ہوا تھا
مضارع مثمن اخرب
فاعلاتن مفاعلن فعِلن
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
خفیف مسدس سالم مخبون محذوف
فاعلاتن فعِلاتن فعِلن
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنے
غیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
رمل مسدس سالم مخبون محذوف
مفتعلن فاعلات مفتعلن فع
دیتے ہیں جنت حیاتِ دہر کے بدلے
نشہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے
منسرح مثمن مطوی منحور
مفتعلن مفاعلن مفتعلن مفاعلن
دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں
رجز مثمن مطوی مخبون
مفاعیلن مفاعیلن فعولن
ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزا کیا
ہزج مسدس محذوف
فاعلاتن فاعلاتن فاعلن
پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
رمل مسدس محذوف
مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن
گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے
ہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے
ہزج مثمن اخرب
مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلاتن
خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دینا
کہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم اگے
مجتث مثمن مخبون